غزل - بے سود کاوشوں


غزل - بے سود کاوشوں Cover Image
Share

بے سود کاوشوں کو روح پالتی گئ

اثبات کی تو خیر محلت نفی گئی

 

وہ صبح،  وہ پیام،  وہ ترسیل، مرحبا 

سارے مؤذنوں کی زباں  کاٹ دی گئی

 

اک لاش کوہکن کی کتھا ایک یگ کے بعد

اک کوہ بے ستوں کی زبانی سنی گئی

 

قوس قزح کو دیکھنے کے جرم میں یاروں

 

کم سن نظر سے روشنی بھی چھین لی گئی

اے بحر بے کراں  کوئی آواز تو اٹھا

تیری تلاش میں لبوں سے تشنگی گئی

 

 

اس بے چراغ ماں کی ایڑیوں میں تھا خدا

جو سینۂ زمیں کو چیرتی چلی گئی

Written By:

محمد عفان