غزل۔ذیشان یہاں

غزل۔ذیشان یہاں Cover Image

ذیشان یہاں  درد و خرابات میں گم تھے

اور آپ وہاں حسن و کرامات میں گم تھے

 

کیوں  آگ لگاتا  نہ مرے دل  میں   اہر من

یزداں کے واقعات میں حالات میں گم تھے

 

وہ خونِ جگر میرا تھا کل چاند نے اوڑھا

تم  دوربین   والے  خرافات  میں  گم    تھے

 

اب پھول ڈھونڈتی ہیں مزاروں میں تتلیاں

سب باغ یہاں گردشِ حالات  میں  گم تھے

 

اب صبح کے قریب چمکتے ہیں جو سر پے

یہ چاند ستارے تو مری رات میں گم تھے

 

جب گنبدِ خضرا کو ضرورت تھی آپ کی

تب آپ  سبھی اپنی عبادات میں گم تھے

 

جو یار دلِ عشق میں تسکین پھونک تے

وہ یار مرے ہائے  خرابات  میں  گم  تھے

 

مقتل میں عدو لاکھ تھے تنہا تھا میرا دل

اور آپ یہاں  رمزِ  روایات  میں  گم  تھے

 

 

Cover Picture By Sharafat ALi